فضا کا ہول نہ ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے

فضا کا ہول نہ ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے

اگر ہے خوف شکاری کو تو مچان کا ہے

 

میں اُس کو بھولنا تو چاہتا ہوں لیکن پھر

وہ اِک اٹوٹ تعلق جو درمیان کا ہے

 

تمہارے نام کی ناؤ اُتاری ہے دِل میں

بھروسہ ہم کو ہوا کا نہ بادبان کا ہے

 

گذر ہے دھوپ کے صحرا سے اب کے اشعرؔ اور

ہمارے ساتھ فقط سایہ آسمان کا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گناہ کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ حلال کیا ہے؟ سوال یہ ہے
مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی
وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی
پا ہی گئی ہے خاک ٹھکانہ ، خاکِ ازل کی پرتوں میں
اک حدِ اعتدال پہ لرزاں ہے دیر سے
یہ قیس دشت میں رو کر دہائی دیتا ہے
یوں بھی تری خوشی کو تماشہ کیا گیا
شکوہِ ترکِ آرزو نہ گلہ