لکیریں تھیں کچھ اور کچھ دائرے

لکیریں تھیں کچھ اور کچھ دائرے

بدلتے رہے آنکھ کے زاویے

 

جنہیں زعم تھا موم سے جسم پر

انہوں نے کئے سورجوں سے گِلے

 

امیروں کے لاکرز میں دھن کے ساتھ

غریبوں کے ارمان بھی بند تھے

 

محبت کی ہے میں نے اُس سے اگر

ضروری نہیں وہ بھی چاہے مجھے

 

تجھے ساتھ لے کر چلوں کس طرح

مِرے سر پہ موسم ہیں دُکھ دھوپ کے

 

اُسے ساونوں کی طلب جو ہوئی

سمندر مِری آنکھ میں آگئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنا پڑا ہے جسم پر گردوغبارِ عشق
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے
اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا
تیری آغوش کی جنت سے نکالے ہوئے ہم
وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو
شق ہوئی مصرِ تمنا کی زمیں، دفن ہوئے
مآلِ سوزِ عشقِ نہاں صرف راکھ ہے
تمام آخرِ شب کو مری حیات ہوئی