مِری آنکھ برکھا کا بے مہر پانی

مِری آنکھ برکھا کا بے مہر پانی

تِری لہر بجلی ، مِری لہر پانی

 

کہ چھلکے ہیں دریا کے جب بھی کنارے

بہا لے گیا بستیاں ، شہر پانی

 

اُتر آئے آنکھوں میں برسات موسم

نظر آیا پھر دہر کا دہر پانی

 

ق

 

اُبھر آتا ہے ڈوبتا دوست چہرہ

میں جب دیکھتا ہوں کبھی نہر ، پانی

 

کسی کے لئے ہوگا تریاق اشعرؔ

مِرے واسطے بن گیا زہر پانی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں
ھر حقیقت سے الگ اور فسانوں سے پرے
تُم احتیاط کے مارے نہ آئے بارش میں
پناہ کیسی؟ فقیروں کی جس کو آہ ملے
نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے
جگر بچا ہی نہیں ہے تو کس کو پروا ہے
ترے ذکرسے چِھڑ گئی بات کیا کیا
ثبوت کوئی نہیں ہے ، گواہ کوئی نہیں
ماحول خوابناک ، نہ ہی وقت شب کا تھا
ہم ڈھانپ تو لیں نین ترے نین سے پہلے