نفرتوں کا وسیع دریا ہو

نفرتوں کا وسیع دریا ہو

ہاتھ شل ہو چکے ہیں چپوّ سے

 

ایک دم ہو گیا ہوں پتھر کا

آپ کی گفتگو کے جادو سے

 

دن نکلتا ہے دیکھ کر چہرہ

شب بندھی ہے تمھارے گیسو سے

 

پھر مجھے کاٹنے لگا بستر

اُٹھ گیا تھا کوئی جو پہلو سے

 

اُس نے ٹانکا تھا پھول کالر میں

میں مُعطّرہوں اُس کی خوشبو سے

 

مرتضیٰ یہ سکوت اچھا ہے

جان جاتی ہے میری ہا ہو سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا
نیا کروں گا وہ جو پرانوں سے مختلف ہو
نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی
مجھے اب مار دے یا پھر امر کر
مجھ کو ملے شکست کے احساس سے نجات