ہوا چیر دیتی ہے اِس شہر کی

ہوا چیر دیتی ہے اِس شہر کی

فضا موت جیسی ہے اِس شہر کی

 

لہو کے سمندر سے شمشان تک

ملاقات ہوتی ہے اِس شہر کی

 

خرابوں کے اوراق پر گونجتی

ادھوری کہانی ہے اِس شہر کی

 

یہاں خواب اُگنے کا موسم نہیں

بڑی بانجھ دھرتی ہے اِس شہر کی

 

سُنا ہے ابھی تک یہاں اِک گلی

مری منتظر تھی ، ہے اِس شہر کی

 

اُسے خط لِکھو اب کے تو پوچھنا

کبھی یاد آئی ہے اِس شہر کی

 

علاقہ ہے اِس سے مجھے مرتضیٰ

ہر اِک چیز پیاری ہے اِس شہر کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خستہ دل، نالہ بلب، شعلہ بجاں ٹھہرے ہیں
حصارِ دیں سے جواں نسل اُف نکلنے لگی
بابِ ادب و علم و خبر تک نہیں پہنچے
شگفتہ، دلنشیں، سادہ رواں ہے
یادِ یزداں آخری سِن کے لیے
کائناتِ رنگ و بُو سے ہجر کا مشتاق ہوں
عشق سے مجھ کو انحراف نہ تھا
کوئی دلیل مرے جرم کی ،سند ،مرے دوست؟
یقیں کو اک گماں سا کھا رہا ہے
میں عشق عشق کی گردان میں پڑا ہوا تھا