محور

کہ جیسے
زمیں گھومتی رہتی ہے
گرد محور کے اپنے
مِری ذات بھی
ایسے ہی گھومتی ہے
ترے گرد !
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

انتظار
اِک بار اُٹھے تھے جو قدم نورِ ہدیٰ کے
یوں تری یاد میں سلگتے ہیں
دوسری ملاقات
صاحبِ اختیار خالق ہے
سیرتِ پاک پر بات کا سلسلہ
تری یاد کا نقش گہرا نہیں ہے
 ایک ادا
اِک عقیدت کے ساتھ کہتا ہوں
جب بھی پہنچا ہوں آقاؐ کے دربار تک