کیا کریں گے مِل کے

روشنی نہیں دیتے
کچھ چراغ کھِل کے بھی
مانتا ہوں ہوتے ہیں
کچھ تقاضے دِل کے بھی
جب رہی نہیں چاہت
کیا کریں گے مِل کے بھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اسکاٹ لینڈ
چلو اداسی کے پار جائیں
بحضورِ ماجد
زنانِ مصر
میں جانتی تھی تعلق کی آخری شب ہے
رودادِ سفر جس کو سنائی ترے در کی
وہ جس کا سایہ ازل سے نشانِ رحمت ہے
پیکار ہے وہ ہم سے کوئی دوسرا نہیں
وہی بالوں میں دو چُٹیاں، وہی اک ہاتھ میں اِملی
گِھر گِھر آئے پگلے بادل ، برسی میگھا سانوری