ممتاز شاعر شوکت علی خاں فانی بدایونی کا یوم پیدائش

آج ممتاز شاعر شوکت علی خاں فانی بدایونی کا یوم پیدائش ہے۔


شوکت علی فانی 1879ء میں بدایون میں پیدا ہوئے۔ فانی کے والد محمد شجاعت علی خان محکمہ پولیس میں انسپکٹر تھے۔ روش زمانہ کے مطابق پہلے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انگریزی پڑھی اور 1901ء میں بریلی سے بی اے کیا۔
کالج چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ پریشانی کے عالم میں گزارا۔ لیکن شعر و سخن کی دلچسپیاں ان کی تسلی کا ذریعہ بنی رہیں۔ 1908ء میں علی گڑھ سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ لیکن وکالت کے پیشے سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ صرف والد کے مجبور کرنے پر وکالت شروع کی اور کچھ عرصہ
بریلی اور لکھنؤ میں پریکٹس کرتے رہے۔ لیکن قانون سے لگاؤ نہ ہونے کی وجہ سے بحیثیت وکیل کامیاب وکیل ثابت نہ ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجموعی طور سے فانی بدایونی کی زندگی پریشانی میں گذری۔ لیکن جس وقار اور فراخ دلی کے ساتھ فانی بدایونی نے مصائب کو برداشت کیا وہ انہی کا کام تھا۔ ان کی اس پریشان حالی سے متاثر ہو کر مہاراجا حیدرآباد نے انہیں اپنے پاس بلا لیا اور اسٹیٹ سے تنخواہ مقرر کر دی۔ پھر فانی بدایونی محکمہ تعلیم میں ملازم ہوئے اور ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے اسی اثناء میں رفیقہ حیات فوت ہوگئیں۔ 1933ء میں جواں سال بیٹی کا انتقال ہو گیا۔ جس سے فانی بدایونی کے دل کو ٹھیس لگی۔ آخر کار ساری زندگی ناکامیوں اور مایوسیوں میں بسر کی اور 82 سال کی عمر 1961ء میں وفات پائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا

ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

حسن ہے ذات مری عشق صفت ہے میری

ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا

کعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوں

آستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا

مختصر قصۂ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں

راز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا

زندگی بھی تو پشیماں ہے یہاں لا کے مجھے

ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا

تم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ

آؤ دیکھو نہ تماشا مرے غم خانے کا

اب اسے دار پہ لے جا کے سلا دے ساقی

یوں بہکنا نہیں اچھا ترے مستانے کا

دل سے پہنچی تو ہیں آنکھوں میں لہو کی بوندیں

سلسلہ شیشے سے ملتا تو ہے پیمانے کا

ہڈیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میں

لیے جاتے ہیں جنازہ ترے دیوانے کا

وحدت حسن کے جلووں کی یہ کثرت اے عشق

دل کے ہر ذرے میں عالم ہے پری خانے کا

چشم ساقی اثر مئے سے نہیں ہے گل رنگ

دل مرے خون سے لبریز ہے پیمانے کا

لوح دل کو غم الفت کو قلم کہتے ہیں

کن ہے انداز رقم حسن کے افسانے کا

ہم نے چھانی ہیں بہت دیر و حرم کی گلیاں

کہیں پایا نہ ٹھکانا ترے دیوانے کا

کس کی آنکھیں دم آخر مجھے یاد آئی ہیں

دل مرقع ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا

کہتے ہیں کیا ہی مزے کا ہے فسانہ فانیؔ

آپ کی جان سے دور آپ کے مر جانے کا

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ

زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے

موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے

آبادی بھی دیکھی ہے ویرانے بھی دیکھے ہیں

جو اجڑے اور پھر نہ بسے دل وہ نرالی بستی ہے

خود جو نہ ہونے کا ہو عدم کیا اسے ہونا کہتے ہیں

نیست نہ ہو تو ہست نہیں یہ ہستی کیا ہستی ہے

عجز گناہ کے دم تک ہیں عصمت کامل کے جلوے

پستی ہے تو بلندی ہے راز بلندی پستی ہے

جان سی شے بک جاتی ہے ایک نظر کے بدلے میں

آگے مرضی گاہک کی ان داموں تو سستی ہے

وحشت دل سے پھرنا ہے اپنے خدا سے پھر جانا

دیوانے یہ ہوش نہیں یہ تو ہوش پرستی ہے

جگ سونا ہے تیرے بغیر آنکھوں کا کیا حال ہوا

جب بھی دنیا بستی تھی اب بھی دنیا بستی ہے

آنسو تھے سو خشک ہوئے جی ہے کہ امڈا آتا ہے

دل پہ گھٹا سی چھائی ہے کھلتی ہے نہ برستی ہے

دل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالم

بستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے

فانیؔ جس میں آنسو کیا دل کے لہو کا کال نہ تھا

ہائے وہ آنکھ اب پانی کی دو بوندوں کو ترستی ہے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے

صبر رخصت ہو رہا ہے اضطراب آنے کو ہے

قبر پر کس شان سے وہ بے نقاب آنے کو ہے

آفتاب صبح محشر ہم رکاب آنے کو ہے

مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے

عمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے

ہائے کیسی کشمکش ہے یاس بھی ہے آس بھی

دم نکل جانے کو ہے خط کا جواب آنے کو ہے

خط کے پرزے نامہ بر کی لاش کے ہم راہ ہیں

کس ڈھٹائی سے مرے خط کا جواب آنے کو ہے

ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر

آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے

روح گھبرائی ہوئی پھرتی ہے میری لاش پر

کیا جنازے پر میرے خط کا جواب آنے کو ہے

بھر کے ساقی جام مے اک اور لا اور جلد لا

ان نشیلی انکھڑیوں میں پھر حجاب آنے کو ہے

خانۂ تصویر میں آنے کو ہے تصویر یار

آئنے میں قد آدم آفتاب آنے کو ہے

پھر حنائی ہونے والے ہیں مرے قاتل کے ہاتھ

پھر زبان تیغ پر رنگ شہاب آنے کو ہے

گدگداتا ہے تصور چٹکیاں لیتا ہے درد

کیا کسی بے خواب کی آنکھوں میں خواب آنے کو ہے

دیکھیے موت آئے فانیؔ یا کوئی فتنہ اٹھے

میرے قابو میں دل بے صبر و تاب آنے کو ہے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیا

مار ڈالا مرنے والے کو کہ اچھا کر دیا

جب ترا ذکر آ گیا ہم دفعتاً چپ ہو گئے

وہ چھپایا راز دل ہم نے کہ افشا کر دیا

کس قدر بے زار تھا دل مجھ سے ضبط شوق پر

جب کہا دل کا کیا ظالم نے رسوا کر دیا

یوں چرائیں اس نے آنکھیں سادگی تو دیکھیے

بزم میں گویا مری جانب اشارا کر دیا

دردمندان ازل پر عشق کا احساں نہیں

درد یاں دل سے گیا کب تھا کہ پیدا کر دیا

دل کو پہلو سے نکل جانے کی پھر رٹ لگ گئی

پھر کسی نے آنکھوں آنکھوں میں تقاضا کر دیا

رنج پایا دل دیا سچ ہے مگر یہ تو کہو

کیا کسی نے دے کے پایا کس نے کیا پا کر دیا

بچ رہا تھا ایک آنسودار و گیر ضبط سے

جوشش غم نے پھر اس قطرے کو دریا کر دیا

فانیؔ مہجور تھا آج آرزو مند اجل

آپ نے آ کر پشیمان تمنا کر دیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

معروف شاعر رئیس فروغ کی برسی
نامور شاعر ماہر القادری کا یومِ پیدائش
معروف شاعر شاذ تمکنت کا یومِ وفات
ادبی دنیا کی معروف شخصیت محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کا یوم پیدائش
نامور شاعر، داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی کا یوم وفات
معروف ادیب غلام حسن شاہ کاظمی کا یوم پیدائش
معروف شاعر شوکت واسطی کا یوم پیدائش
معروف شاعر ندا فاضلی کا یومِ وفات
معروف افسانه نگار اور ادیبہ عصمت چغتائی کا یومِ وفات
معروف شاعر ظہیر غازی پوری کا یوم پیدائش