اردوئے معلیٰ

شامل ہے یہ سوال بھی اب کے ملال میں

کیا کر لیا جنوں نے چوالیس سال میں

 

اب سُست پڑ چلی ہے روانی خیال کی

اب فرق آ گیا ہے لہو کے اُبال میں

 

باقی اگر سفر ہے تو اُترائیوں کا ہے

صحراء نوردِ عُمر ہے دشتِ زوال میں

 

آخر کو اختیار فقیری ہی کی گئی

راضی ہوا نہ عشق کسی اور حال میں

 

جس جس طرح سے فرض کیا ہجر میں تمہیں

وہ وسعتیں کہاں ہیں بساطِ وصال میں

 

اَئے عُمر ، دستِ شفقت و نگراں نظر ہٹا

کتنے ہی کانچ چُور ہوئے دیکھ بھال میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات