شان ان کی ملک دیکھتے رہ گئے

شان ان کی ملک دیکھتے رہ گئے

دم بخود دیر تک دیکھتے رہ گئے

 

لامکاں کے مسافر کا عزّ و شرف

مہر و ماہ و فلک دیکھتے رہ گئے

 

دل نے سجدہ کیا سنگِ دربار پر

اشک زیرِ پلک دیکھتے رہ گئے

 

زائروں کی جبینوں پہ لکھی ہوئی

ایک نوری دمک دیکھتے رہ گئے

 

جس سے گزرے تھے حاجی بڑی شان سے

ہم وہ خالی سڑک دیکھتے رہ گئے

 

مانگنے رنگ آئی تھی بارش کے دن

تیرے در پر دھنک دیکھتے رہ گئے

 

رات دن گنبدِ سبز سے پھوٹتی

ایک پیاری چمک دیکھتے رہ گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ