اردوئے معلیٰ

شاہِ کونین پر عزتیں ختم ہیں

شاہِ کونین پر عزتیں ختم ہیں

آپ کی ذات پر عظمتیں ختم ہیں

 

ختم دورِ رسالت ہوا آپ پر

مصطفیٰ پر سبھی شوکتیں ختم ہیں

 

قاب قوسین سے صاف ظاہر ہوا

ایسی قربت پہ سب قربتیں ختم ہیں

 

جو کتابِ مبیں اتری ہے آخری

اس پہ تفہیم کی لذتیں ختم ہیں

 

ہے رفعنا میں جب رفعتوں کا بیاں

اُن پہ کیوں نہ کہیں، رفعتیں ختم ہیں

 

سُن کے قرآن سے شانِ ختم الرّسل

رحمتوں نے کہا رحمتیں ختم ہیں

 

دیکھ کر آپ کا پیار مسکینوں سے

شفقتیں بول اٹھیں شفقتیں ختم ہیں

 

کیا کروں خلد؟ طیبہ کی جب ہے لگن

جس جگہ آکے سب جنتیں ختم ہیں

 

دیکھ کر بوہریرہ کا وہ جامِ شیر

برکتیں کہتی ہیں برکتیں ختم ہیں

 

عاصیوں کو اماں دے گا محشر کے دن

دامنِ شاہ پر وسعتیں ختم ہیں

 

بے اثر مہرِ محشر کی شدت ہوئی

اُن کے آتے ہی سب کلفتیں ختم ہیں

 

میرے مشکل کشا ناخنوں پر ترے

ہمتیں ختم ہیں نصرتیں ختم ہیں

 

بسترِ موت پر سوگئے مرتضیٰ

ان پہ ہجرت کی شب جراتیں ختم ہیں

 

ان کی پاکی کا قرآن میں ہے بیاں

آلِ اطہر پہ تو عصمتیں ختم ہیں

 

ذوقِ مدحت مشاہد ملا تجھ کو وہ

جس کے آگے سبھی مدحتیں ختم ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ