اردوئے معلیٰ

شاہِ کونین کی خوشبو سے فضا کیف میں ہے

چھو کے نعلینِ کرم غارِ حرا کیف میں ہے

 

جب سے مانگا ہے شہِ کون و مکاں کا جلوہ

لفظ ہیں رقص کناں حرفِ دعا کیف میں ہے

 

ایسے دربار میں پھیلایا ہے دامانِ طلب

التجا وجد میں ہے اور صدا کیف میں ہے

 

کر کے آئی ہے ابھی کوئے معطر کا طواف

کشتِ نوخیز میں وارفتہ صبا کیف میں ہے

 

شافعِ حشر کی اک چشمِ عنایت کے سبب

فردِ اعمال کی ہر ایک خطا کیف میں ہے

 

یاد آئی ہے مدینے کی بلاوے کی طرح

طاقِ امید پہ اک لرزاں دیا کیف میں ہے

 

نعت بھر دیتی ہے اشفاق رگوں میں امرت

جس کسی کو بھی ملا رزقِ ثنا ،کیف میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات