شاہِ کونین کی خوشبو سے فضا کیف میں ہے

شاہِ کونین کی خوشبو سے فضا کیف میں ہے

چھو کے نعلینِ کرم غارِ حرا کیف میں ہے

 

جب سے مانگا ہے شہِ کون و مکاں کا جلوہ

لفظ ہیں رقص کناں حرفِ دعا کیف میں ہے

 

ایسے دربار میں پھیلایا ہے دامانِ طلب

التجا وجد میں ہے اور صدا کیف میں ہے

 

کر کے آئی ہے ابھی کوئے معطر کا طواف

کشتِ نوخیز میں وارفتہ صبا کیف میں ہے

 

شافعِ حشر کی اک چشمِ عنایت کے سبب

فردِ اعمال کی ہر ایک خطا کیف میں ہے

 

یاد آئی ہے مدینے کی بلاوے کی طرح

طاقِ امید پہ اک لرزاں دیا کیف میں ہے

 

نعت بھر دیتی ہے اشفاق رگوں میں امرت

جس کسی کو بھی ملا رزقِ ثنا ،کیف میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

درجاتِ مصطفےٰ میں یوں تفریق کی گئی
یکتَا بہ فضِیلت ہیں ہر اَبرار سے پہلے
’’منظور تھی جو شکل تجلی کو نور کی‘‘
کیسے رکھتا میں آنکھوں کا نم تھام کر
نعت لکھنے کا جب بھی ارادہ کیا
آتا ہے یاد شاہِ مدینہ کا در مجھے
رات ڈھلتی رہی ، بات ہوتی رہی
جتنا علم و شعور ملتا ہے
اسی انسان سے مجھے بوئے وفا آتی ہے
اُمیؐ نے بہرہ مند کیا عقل و خرد سے

اشتہارات