اردوئے معلیٰ

Search

شبِ جدائی کے لمحے اڑان بھرنے لگے

سحر ہوئی تو مدینہ میں ہم اترنے لگے

 

سیہ فراق کا چھلکا ہٹا، سحر پھوٹی

سنہری دھوپ کھلی نخل جاں نکھرنے لگے

 

گناہ تھا تو نہیں پر گناہ جیسا لگا

جب اس زمین پہ ہم اپنے پاؤں دھرنے لگے

 

وہ سنسناہٹیں تھیں کھنکھناتی مٹی کی

کہ جیسے کوری صراحی میں پانی بھرنے لگے

 

ہمارے پاس تھا کیا کھارے آنسوؤں کے سوا

سو ہم وہی درِ اقدس پہ پیش کرنے لگے

 

میں ایک دن جو گیا وادیٔ عقیق کی سمت

تو مجھ پہ وقت کے سیلاب سے گزرنے لگے

 

جھلستی دھوپ میں سلمان فارسی کا وہ باغ

ہزار سائے مرے ذہن میں ابھرنے لگے

 

منافقین تو دو رنگ دو رخے تھے ہی

ذرا سا وقت پڑا اور سب مکرنے لگے

 

جو صادقین تھے ان کو بھی جھڑجھڑایا گیا

کبھی کبھی تو کچھ اہل رضا بھی ڈرنے لگے

 

احد نے دیکھے تھے اس روز ہمتوں کے پہاڑ

جب آنکھیں پھٹنے لگیں حوصلے بکھرنے لگے

 

اس اک دراڑ کی قسمت عروج پر پہنچی

کہ جب نبی کی حفاظت پہاڑ کرنے لگے

 

اسی شگاف کے ان پتھروں سے مس ہوا میں

یہ لمس ملتا ہے تقدیر جب سنورنے لگے

 

قسم ہے حبِّ محمد(ص)! قسم ہے مجھ کو تری

جو ان کی جان کے دشمن تھے ان پہ مرنے لگے

 

پیالے بھرتے تھے زمزم کے زمزموں سے سعودؔ

یہ جل ترنگ سبھی مجھ کو بہتے جھرنے لگے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ