اردوئے معلیٰ

شب فراق کا منظر نہیں بدلنے دیا

کوئی چراغ جلایا نہ میں نے جلنے دیا

 

ہم اس کا رد عمل جانتے تھے پہلے سے

سو ہم نے گیند زیادہ نہیں اچھلنے دیا

 

دلیل اس کے دریچے کی پیش کی میں نے

کسی کو پتلی گلی سے نہیں نکلنے دیا

 

پھر اس کے بعد گلے سے لگا لیا میں نے

خلاف اپنے اسے پہلے زہر اگلنے دیا

 

یہ لوگ جا کے کٹی بوگیوں میں بیٹھ گئے

سمے کو ریل کی پٹڑی کے ساتھ چلنے دیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات