اردوئے معلیٰ

Search

شجر کہاں تک بھلا ہواؤں کے کان بھرتے

اگر پرندے خلوص دل سے اڑان بھرتے

 

وہ سرخ پھولوں سا شخص بازار آیا ہوتا

تو سارے خوشبو فروش اپنی دکان بھرتے

 

اے کم میسر !! ترا نہ ہونا تو طے شدہ تھا

مگر جو نقصان ہو چکا وہ تو آن بھرتے

 

ہمارے ملنے کی شرط شائد بہت کڑی تھی

کہ جس کا تاوان عمر بھر خاندان بھرتے

 

یہ چوٹ گہری بہت ہے کومل مجھے خبر ہے

لگے گی مدت یہ گھاو،، ان کے نشان بھرتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ