اردوئے معلیٰ

شجر کے دل میں گھاؤ کر گیا ہے

شجر کے دل میں گھاؤ کر گیا ہے

حجر تک میں رچاؤ کر گیا ہے

 

عطا کر کے کمر بوسی کی دولت

ستونوں کو غزل گو کر گیا ہے

 

اتر آیا ہے گر ناز و ادا پر

اشارے سے قمر دو کر گیا ہے

 

اٹھا ہے ابرِ رحمت بار بن کر

غبار دشمنی دھو کر گیا ہے

 

بہارِ عظمتِ آدم ہے ان سے

جو گل بوٹے یہاں بو کر گیا ہے

 

وہ اپنی اولیں پرواز ہی میں

خجل روح الامیںؒ کو کر گیا ہے

 

کوئی بھٹکا پھرے اس کی بلا سے

وہ ہر سو روشنی تو کر گیا ہے

 

نشان راہ اس کے طور و سدرہ

یہاں تک ارتقا لو کر گیا ہے

 

زمانہ تا ابد دہرا سکے گا

شب معراج میں جو کر گیا ہے

 

وہی پہنچا حریم کبریا تک

جو ان کی راہ سے ہو کر گیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ