شرح مزمل ہیں طہٰ آپ ہیں

شرح مزمل ہیں طہٰ آپ ہیں

خوب رو حسن سراپا آپ ہیں

 

بے بسوں کے بس سہارا آپ ہیں

خلق میں بے مثل و یکتا آپ ہیں

 

جن سے پھیلی ہے ضیا اس دہر میں

بالیقیں وہ نور والا آپ ہیں

 

ہے زباں پر سب کے چرچا بس یہی

انبیاء میں سب سے اعلیٰ آپ ہیں

 

جس کے حصے میں ہیں آئے مصطفی

خوش نصیبہ اے حلیمہ آپ ہیں

 

بے سہاروں کے لئے اب حشر میں

میرے آقا شامیانہ آپ ہیں

 

کربلا میں گردنیں جن کی کٹی

اس گھرانے کے وہ نانا آپ ہیں

 

حور و غلماں کہہ رہے ہیں باادب

خوبصورت سب سے آقا آپ ہیں

 

کہہ گئے ہیں اعلحضرت پہلے ہی

سب سے بالا اور اعلی آپ ہیں

 

عاشق احمد رضا نوری سدا

پڑھ رہے ہیں جن کا خطبہ آپ ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اُنؐ کے رستوں کی گردِ سفر مانگنا
مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے
مری زبان پہ ان کی ہے گفتگو اب تک
سطوتِ شاہی سے بڑھ کر بے نوائی کا شرَف
اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم
مرا دل تڑپ رہا ہے
بنایا ہے حسیں پیکر خدا نے مشک و عنبر سے
آنکھ گنبد پہ جب جمی ہوگی
جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے
صبح بھی آپؐ سے شام بھی آپؐ سے