شمیمِ جاں فزا لائی، پھری گلشن میں اترائی

شمیمِ جاں فزا لائی، پھری گلشن میں اترائی

کھلے پڑتے ہیں غنچے بھی، مدینہ سے صبا آئی

 

مرا حسنِ مقدر ہے وہ مولائی وہ آقائی

مری دنیا سنور اٹھی، مری عقبیٰ میں بن آئی

 

خدا نے کب کسے بخشی؟ کسی نے کب بھلا پائی؟

تری صورت سی رعنائی، تری سیرت سی یکتائی

 

تھا حرص و آز سے بالا، خدا کے دیں کا متوالا

منال و مال ٹھکرایا، شہنشاہی بھی ٹھکرائی

 

ازل سے رب نے کر رکھی تھی تیرے واسطے مختص

قیامت تک کی سرداری، زمانے بھر کی آقائی

 

ترے قرآن کی عظمت مسلّم ہے زمانے میں

ترے اقوال ہیں زریں، تری با توں میں گہرائی

 

زمانے کی گواہی ہے فرشتوں کی شہادت ہے

ہوئی وہ پاش پاش آخر، جو قوت تم سے ٹکرائی

 

مصفّا خوشگوار و بارد و شیریں وَ بلّوریں

یہ آبِ چشمۂ زمزم تِرا ورثہ ہے آبائی

 

پہنچتے ہیں قدم بوسی کو سب اقصائے عالم سے

زیارت کا تِرے روضہ کی ہر مومن تمنائی

 

از آلامِ زمانہ بھاگ کر عشاق جا پہنچے

ترے گیسو کی چھاؤں میں بڑی آسودگی پائی

 

بشر کے واسطے ممکن نہیں اس تک رسا ہونا

تمہارے واسطے اک گام ہے یہ چرخِ مینائی

 

نظرؔ ایسے ہی بن جاؤ اگر کچھ مرتبہ چاہو

اولو الالباب کے زمرہ میں ہیں سب اس کے شیدائی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ