اردوئے معلیٰ

شکر ہے خداوندا ، انکسار قائم ہے

ہم نیاز مندوں کا اعتبار قائم ہے

 

ایسے خشک موسم میں ، تیری ہی عنایت سے

گلشنِ تمنا کا کاروبار قائم ہے

 

شکر ہے میرے مالک ، بھیڑ میں کتابوں کی

اپنے چند لفظوں کا اعتبار قائم ہے

 

آج بھی مہکتی ہیں اپنے حرف کی کلیاں

آتے جاتے موسم میں یہ بہار قائم ہے

 

اہلِ دل کی محفل میں ، اہلِ فن کی مجلس میں

اعتبارؔ ساجد کا اعتبار قائم ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات