شکستہ ہوں تو ہونے دو مری امید ٹوٹی ہے

شکستہ ہوں تو ہونے دو مری امید ٹوٹی ہے

مجھے کچھ دن تو رونے دو مری امید ٹوٹی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اب کوئی در، نہ کوئی راہ گزر دیکھوں گا
دنیا میں کوئی عشق سے بد تر نہیں ہے چیز
یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا
چپ چپ رہنا آہیں بھرنا کچھ نہ کہنا لوگوں سے
آپ دستار اٹھاؤ تو کوئی فیصلہ ہو
تو آج سکندر ہے تو کیوں اتنا تفاخر
فقط تہجی کے عام حرفوں پہ مشتمل تھا
ابھی اسے خواب جیسی نعمت نہیں دکھائی
عجب ملبوس ہے ہم وحشیوں کا رخت عریانی
اپنے انداز تکلم کو بدل دے ورنہ میرا