اردوئے معلیٰ

شکوہِ مرگِ آرزوُ بھی نہیں

کوئی سامع نہیں ہے توُ بھی نہیں

 

اب مخاطب کوئی نہیں میرا

اور اب کوئی روبروُ بھی نہیں

 

میں زمیں بوس ہی نہ ہو جاؤں

میری بوسیدگی کو چھوُ بھی نہیں

 

بیج دفنا رہے ہو خوابوں کے

میری قدرت میں جب نموُ بھی نہیں

 

گمشدہ خود کو ڈھونڈتا ہوں میں

اب تمہاری تو جستجوُ بھی نہیں

 

دل ہی اب چاک سے عبارت ہے

اس لیے حاجتِ رفوُ بھی نہیں

 

کیا شراروں کو روئیے ناصر

اب رگِ جان میں لہوُ بھی نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات