شہرِ طیبہ میں میسر روح و دل کو تھا سکوں

شہرِ طیبہ میں میسر روح و دل کو تھا سکوں

اُس فضا سے دور آ کر چھن گیا سارا سکوں

 

ہے اگر شکوہ کہ دنیا میں نہیں ملتا سکوں

اُسوۂ سرکار ﷺ اپنا، پائے گا ہر جا سکوں!

 

دل میں رکھ یادِ نبی ﷺ، ہونٹوں پہ رکھ پیہم درود

دیکھ ہوتا ہے مُیسر پھر تجھے کیسا سکوں!

 

ربِ کعبہ! قربِ طیبہ کی دعائیں ہوں قبول!

ہر جگہ بے چینیاں ہیں، دل نہیں پاتا سکوں

 

نغز گوئی ہو چکی، اے شاعرِ رنگیں بیاں

اب فقط ذکرِ نبی ﷺ سے قلب کو پہنچا سکوں

 

اضطرابِ روح کا ہے اک مُداوا ’’پیروی‘‘

چھوڑ کر اُسوہ نبی ﷺ کا کیسی راحت، کیا سکوں؟

 

اس لیے بے چینیاں بھی ہیں مجھے دل سے قبول

کہہ سکوں محشر میں یارب!ہجر میں کب تھا سکوں؟

 

عدلِ فاروقی و ایثارِ حسینی کے بغیر

سُن رکھو! دنیا میں حاصل ہو نہیں سکتا سکوں

 

جب سے دی ترجیح، دیں پر تو نے دنیا کو عزیزؔ

ہر نگر میں ہر فضا میں ہو گیا عنقا سکوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر اک بات امی لقب جانتے ہیں
جھکا کے اُنؐ کی عقیدت میں سر مدینے چلو
بلا لے ہم کو بھی اب کے مدینے یا رسول اللہ
زندگی بندگی روشنی ان سے ہے جس کا ان کے کرم پر گزارا نہیں
جو مجھے چاہیے سب کا سب چاہیے
ہوئی خود حقیقت مخفی تھی جلی لباس مجاز میں
سارے شہروں میں ہوا افضل مدینہ آپؐ کا
حشر کے دن رتبۂ والائے سرور دیکھنا
نعت تب ہوتی ہے جب دل پہ ہو تنزیل کوئی
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​