اردوئے معلیٰ

Search

شہرِ طیبہ کی ہوا درکار ہے

دردِ عصیاں کی دوا درکار ہے

 

مصطفیٰ خیر الوریٰ کے عشق میں

بس تڑپنے کی ادا درکار ہے

 

جاہ و حشمت کا نہیں طالب حضور

آپ کی اُلفت شہا درکار ہے

 

سرخروئی قبر و محشر میں مِلے

یہ عنایت یہ عطا درکار ہے

 

سر اُٹھاتا ہے یزیدِ وقت پھر

پھر سے کوئی کربلا درکار ہے

 

حضرتِ فاروقِ اعظم سا ہمیں

پھر سے کوئی رہنما درکار ہے

 

عالمِ اسلام کو پھر سے عروج

اے مرے رُوحی فِدا درکار ہے

 

روزِ محشر بس شفاعت آپ کی

شافعِ روزِ جزا درکار ہے

 

نعت لِکھتا نعت میں پڑھتا رہوں

یہ شرف یا مصطفیٰ درکار ہے

 

شوق سے مرزا کہو نعتِ نبی

مصطفیٰ کی گر رضا درکار ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ