اردوئے معلیٰ

شہِ بطحا کی یہ چوکھٹ ہے، پشیماں کیوں ہے

شہِ بطحا کی یہ چوکھٹ ہے ، پشیماں کیوں ہے

مانگنے والے تو کچھ مانگ پریشاں کیوں ہے

 

عشقِ سرکار ہی جب ٹَھہرا دوا خانہِ ہست

خود سمجھ لو کہ مرا دل، مرا درماں کیوں ہے

 

چشمِ اسباب تجھے کھینچتی ہے اپنی طرف

دیکھ اے دوست کہ دنیا میں چراغاں کیوں ہے

 

ربطِ تخلیق میں تفریق کا مقصد پہچان

خاک کیا چیز ہے اور حضرتِ انساں کیوں ہے

 

آپ کے پاؤں سوئے عرشِ عظیم اٹھے تھے

لوگ حیراں ہیں فضا اتنی فروزاں کیوں ہے

 

شکر ہے ، نعمتِ توفیق سے ملتا ہے جواب

میری ، اصناف میں اک نعت ہی پہچاں کیوں ہے

 

کس کے پڑھتے ہیں قصیدے یہ حسینانِ جہاں

باغ میں دیکھئے وہ مجمعِ خوباں کیوں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ