اردوئے معلیٰ

Search

 

شہِ دیں کی طلب میں زندگی محسوس ہوتی ہے

جہاں تک دیکھتا ہوں روششنی محسوس ہوتی ہے

 

ابھی ٹوٹا نہیں ہے سلسلہ ان کی توجہ کا

ابھی تو میری آنکھوں میں نمی محسوس ہوتی ہے

 

کلیجے سے لگا رکھا ہے غم میں نے شہِ دیں کا

کہ اس غم میں حیاتِ دائمی محسوس ہوتی ہے

 

کرم شیوا ہے ان کا وہ کرم فرمائیں گے لیکن

مجھے اپنی محبت میں کمی محسوس ہوتی ہے

 

یہ کس محفل میں لے آیا مرا ذوقِ طلب مجھ کو

یہاں تو زندگی ہی زندگی محسوس ہوتی ہے

 

مدینے کی فضائیں کیف آگہیں روح پرور ہیں

سرور آنکھوں مین دل میں سر خوشی محسوس ہوتی ہے

 

یہاں تک راس آئی ہے محبت سرورِ دیں کی

فدا آنسو بہا کر بھی خوشی محسوس ہوتی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ