شیرازہ بندِ دفترِ امکاں ہے شانِ حق

شیرازہ بندِ دفترِ امکاں ہے شانِ حق

سرچشمۂ حیات ہے فیضِ روانِ حق

بارانِ لطف ہے کرمِ جاودانِ حق

ذرے زبانِ حال سے ہیں تر زبانِ حق

 

رنگِ نوائے راز ہے ہستی کے ساز میں

در پردہ بس رہی ہے حقیقت مجاز میں

 

تابش فزائے ماہِ نظر تاب ہے وہی

ضو بخشِ برقِ غیرتِ سیماب ہے وہی

نزہت دِہِ رخِ گلِ شاداب ہے وہی

زینت فروزِ عالمِ اسباب ہے وہی

 

حق کی ضیا سے نور کا مطلع جہان ہے

ذروں میں آفتابِ درخشاں کی شان ہے

 

روئے مجاز عکس ہے حق کی صفات کا

پرتو اس آئینے میں ہے انوارِ ذات کا

حق اصلِ کُل ہے سلسلۂ کائنات کا

اعجازِ حق ہے راز طلسمِ حیات کا

 

ظلمت سرائے دہر میں ہے حق کی روشنی

جلوہ فشاں ہے قادرِ مطلق کی روشنی

 

زیبِ ریاضِ دہر اگر فیضِ حق نہ ہو

رنگیں کتابِ خندۂ گل کا ورق نہ ہو

نیرنگِ دل فریب بہارِ شفق نہ ہو

مہرِ مبیں سے چرخ کا روشن طبق نہ ہو

 

ایوانِ شش جہت میں برستا جو نور ہے

حق تو یہ ہے یہ جلوۂ حق کا ظہور ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھے چاہیے مرے مصطفیٰ ترا پیار، پیار کے شہر کا
معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
مدحتِ مصطفیٰ گنگنانے کے بعد
یہ جُود و کرم آپؐ کا ہے، فیض و عطا ہے
ہم درِ مصطفیؐ پہ جائیں گے
مرے گھر کا جو دروازہ کھلا ہے
فراق و ہجر کا دورانیہ ہو مختصر، آقاؐ
آتی ہے رات دن اک آواز یہ حرم سے
اک نور سے مطلعِ انوار مدینہ