صاحبِ جود و سخاوت کون ہے تیرے سوا

 

صاحبِ جود و سخاوت کون ہے تیرے سوا

قاسمِ ہر ایک نعمت کون ہے تیرے سوا

 

کس کے دم سے رتبۂ عالی پہ ہے آدم نژاد

رشک گاہِ آدمیت کون ہے تیرے سوا

 

درجۂ ختمِ رسل پر کون ہے جلوہ فگن

لائقِ ختمِ نبوت کون ہے تیرے سوا

 

بخشوائے گی گنہگاروں کو جو محشر کے دن

کس نے پائی ہے یہ قدرت کون ہے تیرے سوا

 

جب الیٰ غیری الیٰ غیری صدائیں ہوں بلند

جو کرے سب کی شفاعت کون ہے تیرے سوا

 

ذکر جس کا خود خدائے پاک نے رکھا رفیع

ایسا ممدوحِ جلالت کون ہے تیرے سوا

 

جس کی نکہت پر ہے قرباں ہر صبیح و ہر ملیح

وہ نمک آگیں صباحت کون ہے تیرے سوا

 

ہے اگرچہ درمیاں چودہ صدی کا فاصلہ

پھر بھی ایماں کی حرارت کون ہے تیرے سوا

 

پھر کے تیرے در سے منظرؔ جائے گا کیونکر کہیں

مرکزِ رشد و ہدایت کون ہے تیرے سوا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات