اردوئے معلیٰ

صبحِ غم بسلسلۂ مرگِ زوجۂ دوم (1980ء)

دلِ بر گشتہ قسمت کی پریشانی نہیں جاتی

ملا وہ غم کہ جس کی شعلہ سامانی نہیں جاتی

 

نہ بھولے گا وہ صبحِ غم دلِ رنجور و صد پارا

شبستانِ محبت کی بجھی جب شمع دل آرا

 

لیا دستِ قضا نے چھین تم کو اے وفا پیکر

کفِ افسوس ملتا رہ گیا اپنا دلِ مضطر

 

تمہارا آفتابِ زندگی روپوش ہوتے ہی

مری دنیائے دل پر چھا گئی کس درجہ تاریکی

 

ورق الٹا تصور نے کتابِ زندگانی کا

کھلا ہے باب ایسا ہی مرے عہدِ جوانی کا

 

سکوں نا آشنا تھا دل ز مرگِ زوجۂ اول

تھے میرے قلب پر سایہ فگن غم کے سیہ بادل

 

بہارِ گلشنِ ہستی ہوئی گلشن سے جب پراں

خزاں دیدہ چمن میں تھیں مرے افسردہ دو کلیاں

 

تم اس تاریکی فرقت میں آئی تھیں کرن بن کر

خزاں آغوش گلشن میں قدم رکھا دلہن بن کر

 

تمہارے آتے ہی گلشن میں میرے پھر بہار آئی

کھلا پھر غنچۂ دل پھر ہوائے خوش گوار آئی

 

تمہارے دم قدم سے بس گیا پھر میرا کاشانہ

خوشی سے پھر ہوا لبریز میرے دل کا پیمانہ

 

سکوں مجھ کو میسر از سرِ نو ہو گیا تم سے

سفینہ دل کا باہر آ گیا غم کے تلاطم سے

 

فراہم تھا مجھے آرامِ جاں خدمت گزاری سے

تمہاری خانہ داری دل نوازی غم گساری سے

 

گزرتی تھی گراں تم پر پریشاں خاطری میری

تمہیں وجہِ مسرت تھی ہنسی میری خوشی میری

 

ہماری منتظر رہتی تھیں تم دفتر سے آنے تک

وتیرہ مستقل رکھا یہی آخر زمانے تک

 

گزرتی جا رہی تھی زندگی جوئے رواں بن کر

خوشی کی ترجماں بن کر محبت کا نشاں بن کر

 

خبر کیا تھی کہ تیرِ آسماں کا پھر ہدف ہو گی

غموں کا راج ہو گا پھر خوشی پھر بر طرف ہو گی

 

تمہیں لاحق ہوئی آخر وہ ناہنجار بیماری

کہ جس نے رفتہ رفتہ چھین لیں رعنائیاں ساری

 

مرض بڑھتا گیا تا آنکہ خستہ جاں کیا تم کو

دعائیں کارگر ٹھہریں نہ راس آئی دوا تم کو

 

تمہارے جامِ ہستی کے چھلکنے میں تھا اک ہفتہ

کہ فالج کے اثر نے کر دیا تھا تم کو لب بستہ

 

زباں ہلتی نہ تھی بالکل جو کرتیں بات کچھ ہم سے

تکا کرتی تھیں میری سمت بس تم چشمِ پر نم سے

 

کبھی بے ہوش رہتی تھیں کبھی کچھ ہوش آتا تھا

علالت کا زمانہ آخری دیکھا نہ جاتا تھا

 

تمہاری حالتِ نا گفتہ بہ سے دل یہ کٹتا تھا

تصور سے کسی نادیدہ غم کے خون گھٹتا تھا

 

تمہارے رخ پہ سب کیفیتیں دل کی عیاں دیکھیں

اداسی بے قراری حسرتیں مایوسیاں دیکھیں

 

وبالِ جان بن کر رہ گیا تھا یہ مرض تم کو

کشش باقی نہ تھی اس زندگی میں الغرض تم کو

 

بڑی حسرت سے لیٹے لیٹے آہِ سرد بھرتی تھیں

کبھی گھبرا کے بے حد تم دعائے موت کرتی تھیں

 

سلامت چھوڑ کر دار الشفا میں شب کو گھر آیا

چراغِ زندگی اگلی سحر لیکن بجھا پایا

 

چلا داؤں نہ کچھ انسان کی تدبیر و حکمت کا

ہوا پورا بالآخر تھا جو لکھا لوحِ قسمت کا

 

چھٹی اس غم کدے سے جاں ملا ہے گوشۂ راحت

خدا کا فضل ہو تم پر خدا کی تم پہ ہو رحمت

 

ثوابِ آخرت بخشوں گا تم کو میں بہر عنواں

خلوصِ دل سے پڑھ پڑھ کر تمہیں بخشوں گا میں قرآں

 

ہمیں جنت میں ملوا دے عجب کیا اس کی قدرت سے

بڑی امید رکھتا ہوں خدا کی شانِ رحمت سے

 

سرائے عالمِ فانی سے سب کو ہی گزرنا ہے

لحد کی گود میں اک دن بالآخر جا اترنا ہے

 

تمہاری کشتی عمرِ رواں پہنچی سرِ ساحل

سفر پورا ہوا لو اب اٹھاؤ راحتِ منزل

 

بڑی سنسان لگتی ہے اکیلے رہ گزر ہم کو

نہیں باقی تمہارے بعد اب لطفِ سفر ہم کو

 

بہت شعلہ فشاں ہے دل میں تیرا دردِ مہجوری

علاج اس کا نہیں ممکن مگر اے وائے مجبوری

 

جو دل سرشارِ دنیا تھا وہ اب بیزارِ دنیا ہے

نہ ہونے اور ہونے میں تمہارے فرق کتنا ہے

 

تمہاری یاد آتی ہی رہے گی ہم نفس مجھ کو

اکیلے کاٹنی ہے اب تو یہ قیدِ قفس مجھ کو

 

ٹھہر بس اے دلِ مضطر متاعِ صبر بہتر ہے

فغاں سے فائدہ کیا آخرت کا اجر بہتر ہے

 

ہماری اہلیہ کی یا الٰہی مغفرت فرما

بہ فردوسِ بریں اس کو ٹھکانہ مرحمت فرما

 

دلِ مہجور کی میرے مٹا دے سب پریشانی

متاعِ صبر دے، کر محو دل کا سوزِ پنہانی

 

رفو کر چاکِ دل اور مندمل زخمِ جگر کر دے

مرے اللہ مجھ پر اپنی رحمت کی نظرؔ کر دے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ