اردوئے معلیٰ

صد شکر کہ پھر لب پہ محمد کی ثنا ہے

صد شکر کہ پھر لب پہ محمد کی ثنا ہے

پھر وردِ زباں صلِ علیٰ، صلِ علیٰ ہے

 

بے مہرئ ايام سے مفلس ہیں تو کیا ہے

ہم جس کے بھکاری ہیں وہ دربار بڑا ہے

 

جس ذرۂ ناچیز کو اس در سے ہو نسبت

نکہت ميں وہ گل ہے تو لطافت میں صبا ہے

 

ہر صبح ترے ذکر کی خوشبو سے معطر

ہر شام نے اس دل پہ ترا نام لکھا ہے

 

اے بادِ صبا! پھر کوئی پیغامِ محبت

پھر چشمِ تصور نے انہیں یاد کیا ہے

 

آمد ہو کہ آورد اُسی در کی عنایت

مدحت کا سلیقہ بھی اُسی در کی عطا ہے

 

مدحت کے یہ اشعار ہوئے جس کی فضا میں

اک عام سا کمرہ ہے مگر خلد نما ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ