اردوئے معلیٰ

صد چاک ہی دامان و گریبان بھلے ہیں

صد چاک ہی دامان و گریبان بھلے ہیں

پر جب بھی چلے چال قیامت کی چلے ہیں

 

ہم خاک میں پیوست ہوئے تھے کہ اُگے تھے

اک عمر ہوئی ہے کہ نہ پھولے نہ پھلے ہیں

 

آفاقِ توقع پہ اُبھرتے تو رہے ہم

ہر شام بھلے دشتِ ندامت میں ڈھلے ہیں

 

ممکن نہ ہوا شب کی سیاہی کا ازالہ

ہم یوں تو کئی بار چراغوں سا جلے ہیں

 

ناخن سے کریدیں گے زمیں اور کہاں تک

کیا واقعی اہرام اسی خاک تلے ہیں

 

اس طور تاسف میں نہ گہنائیے خود کو

ہم خانماں برباد حوادث میں پلے ہیں

 

اب وقت کی تلوار سے کیا چیز کٹی ہے

لمحات ہیں ، رستے ہیں کہ اس بار گلے ہیں

 

اک وحشتِ کمبخت نے لنگر نہیں ڈالے

طوفان جو اُٹھے تھے وہ جاں لے کے ٹلے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ