صرف کچھ دن کی سکونت ہے ، چلی جاؤں گی

صرف کچھ دن کی سکونت ہے ، چلی جاؤں گی

یہ ترا شہر مری جان کا دشمن نہ بنے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اشک میں ڈھل کے آؤں گا
معاملہ تبھی چلتا اگر ہوا چلتی
پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوں
اس شہرِبے مثال میں بس مجھ کو چھوڑ کر
یہ رقیبوں کی ہے سخن سازی
صدیوں میں کوئی ایک محبت ہوتی ہے
زندگی تجھ سے عبارت ہے میری جاں لیکن
میں آسمان پہ واپس نہ لوٹ آؤں ؟ خدا
اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گے
نالے تو میں بہت کیے اس بت کے سامنے

اشتہارات