صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا یوم وفات

آج معروف معلم، شاعر، ادیب اور نقاد صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا یوم وفات ہے ۔

 

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
——
(پیدائش: 4 اگست، 1899ء- وفات: 7 فروری، 1978ء)
——
وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ
کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ
——
معلم، شاعر، ادیب اور نقاد صوفی غلام مصطفیٰ تبسم 4 اگست 1899 کو امرتسر میں پیدا ہوئے جہاں ان کے بزرگ کشمیر سے آکر آباد ہوئے تھے، صوفی تبسم کے والد کا نام صوفی غلام رسول اور والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ صوفی غلام مصطفی ان کا نام تھا اور تبسم تخلص۔ وہ چار بہن بھائی تھے جن میں صوفی غلام مصطفیٰ تبسم سب سے بڑے تھے، ابھی صوفی غلام مصطفیٰ تبسم معصوم بچے تھے کہ ان کی والدہ انھیں دیوان خانے سے باہر صحن میں لیے بیٹھی تھیں تو ایک جوگی جو اللہ سے لو لگائے ہوئے تھا وہاں سے گزرا،اس نے معصوم صوفی تبسم کو دیکھتے ہی شفقت کا ہاتھ ان کے سر پر رکھا اور ان کی والدہ سے کہا ’’اے بی بی! یہ بچہ بڑی قسمت لے کر پیدا ہوا ہے، یہ بڑا ہوکر بڑی شہرت اور ناموری حاصل کرے گا۔‘‘ پھر دنیا نے دیکھا یہ معصوم بچہ کل کا صوفی غلام مصطفیٰ تبسم انیسویں صدی کا مشہور ومعروف معلم، شاعر، ادیب اور نقاد بنا۔
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے ایف سی کالج لاہور سے بی اے جب کہ اسلامیہ کالج لاہور سے ایم اے فارسی کیا، بی ٹی سینٹرل ٹریننگ کالج لاہور،گورنمنٹ کالج لاہور میں اردو اور فارسی کے شعبے کے صدر رہے، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے کئی روپ تھے اور ہر روپ میں پسند کیے گئے، بحیثیت معلم شاگردوں کے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ رہا، پرانے زمانے کے استادوں کی طرح وہ صرف استاد ہی نہیں تھے، مرشدوں والی صلاحیت بھی رکھتے تھے، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی ادبی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتا، انھوں نے تین زبانوں میں لکھا اور بہترین لکھا، اردو، پنجابی اور فارسی پر انھیں عبور حاصل تھا۔
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے غالب کے فارسی کلام کا منظوم ترجمہ بھی کیا جوکہ ان کا بڑا کارنامہ ہے۔ فارسی کلام غالب کی شرح تحریر کی جو دو جلدوں میں چھپ چکی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : حمد و نعت کی تاریخ
——
اس کے علاوہ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے امیر خسرو کے فارسی کلام کا بھی منظوم ترجمہ کیا۔ یہ امیر خسرو کی 100 غزلوں کا ترجمہ تھا جو ’’دو گونہ‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کی ایک غزل ’’یہ رنگینی نوبہار اللہ اللہ‘‘ گلوکارہ ناہید اختر کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کردیے۔ اس کلام کی تاثیر ہمسایہ ملک تک بھی پہنچی اور بھارتی موسیقاروں نے فلم ’’جینا صرف میرے لیے‘‘ میں اسی کلام کو ’’مجھے مل گیا میرا پیار اللہ اللہ اللہ‘‘ کے الفاظ میں ریکارڈ کرلیا۔
صوفی تبسم کی لکھی ہوئی 31 کتابیں مارکیٹ میں موجود ہیں۔
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے غالب کی فارسی غزلوں کا پنجابی میں ترجمہ کیا جن میں سے ایک غزل گائیک غلام علی نے ’’میرے شوق دا نئیں اعتبار تینوں‘‘ گاکر خوب شہرت حاصل کی۔
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے بچوں کے لیے بھی بہت لکھا، بچوں سے بے حد محبت کرتے تھے، انھوں نے ایک بار یہ واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ’’میرے بچے اپنی ماں اور دادی جان سے کہانیاں سنتے، مگر آخر ایک دن ان کی والدہ نے انھیں میری طرف بھیجا کہ جاؤ آج والد سے کہانی سنو۔ میں نے دو چار دن تو کہانی سنائی مگر پھر میں نے بچوں سے کہا کہ میں آپ کو نظم سناسکتا ہوں اور یوں انھوں نے اپنی بیٹی ثریا کے لیے ایک نظم کہی
’’ثریا کی گڑیا نہانے لگی، نہانے لگی ڈوب جانے لگی، بڑی مشکلوں سے بچایا اسے، کنارے پہ میں کھینچ لایا اسے‘‘
پھر ایک بچہ جو صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے دوست عبدالخالق کا بیٹا تھا اور جو عموماً عجیب و غریب حرکتیں کرتا، اس بچے سے ایک کردار نے جنم لیا اور وہ مشہور و معروف کردار ’’ٹوٹ بٹوٹ‘‘ ہے جو آج بھی بچوں کے پسندیدہ کردار ہے اور گنگنایا جاتا ہے:
——
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
باپ تھا اس کا میر سلوٹ
پیتا تھا وہ سوڈا واٹر
کھاتا تھا بادام اخروٹ
——
یہ بھی پڑھیں : مشہور عالمِ دین سید ابوالاعلٰی مودودی کا یوم وفات
——
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم قادر الکلام شاعر تھے، ان کی شاعری نصف صدی پر محیط ہے آپ محض اردو کے شاعر ہی نہیں بلکہ پنجابی اور فارسی کے بھی بلند پایہ شاعر تھے۔ آپ کے شعری ذوق کو فارسی سے خاص مناسبت تھی۔ صوفی تبسم کی شاعری میں محبت کے جذبات کی سچی اور صحیح ترجمانی ملتی ہے۔
صوفی تبسم کو عشق ومحبت کے جذبات و احساسات کا اتنا واضح شعور تھا کہ وہ اپنے کلام میں جگہ جگہ ان جذبات و احساسات کی صحیح اور سچی تصویر کھینچ کر رکھ دیتے تھے۔ اس کی ایک واضح مثال ان اشعار میں بھی ملتی ہے:
——
جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے
درد کے عنواں بدل کر رہ گئے
زندگی بھر ساتھ دینا تھا جنھیں
دو قدم ہمراہ چل کر رہ گئے
——
صوفی تبسم کی بہت سی ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی حب الوطنی کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور اس کا اظہار انھوں نے 1965 کی جنگ میں متعدد جوشیلے اور پراثر جنگی ترانے لکھ کر کیا۔ ان کے لکھے جنگی ترانے آج بھی 1965 والا جذبہ سموئے ہوئے ہیں، خصوصاً ملکہ ترنم نور جہاں نے ان کے جنگی ترانے گاکر انھیں امر کردیا اور جو آج بھی زبان زدعام ہیں
——
’’اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے،
میریا ڈھول سپاہیا تینوں ربّ دیا رکھاں،
کرنیل نی جرنیل نی،
’میرا سوہنا شہر قصور نی،
یہ ہواؤں کے مسافر، یہ سمندروں کے راہی‘‘
——
ان جنگی ترانوں کو نور جہاں نے اپنی جادو بھری آواز میں کچھ اس انداز میں گایا کہ آج بھی ان نغمات کی گونج سے اٹھتے قدم ٹھہر جاتے ہیں۔
صوفی غلام مصطفی تبسم کا علامہ اقبال کے ساتھ محبت اور عقیدت کا سلسلہ جو زمانہ طالب علم سے قائم ہوا، زندگی بھر رہا۔ 1932 میں صوفی تبسم نے علامہ اقبال کی زندگی میں ان کی شاعری کے لیے بہت کام کیا۔ انھوں نے علامہ اقبال کی شاعری کے عنوان سے ایک طویل مقالہ تحریر کیا، جسے علامہ اقبال نے بہت سراہا۔ اسی سال اورینٹل کالج لاہور میگزین میں صوفی تبسم نے علامہ اقبال کے حکم کی تعمیل میں نصیرالدین ہاشمی کی کتاب ’’یورپ میں دکنی مخطوطات‘‘ پر تبصرہ تحریر کیا۔ علامہ اقبال کی وفات کے بعد تو صوفی تبسم نے علامہ اقبال کی شاعری اور فکروفن کی تشریح وضاحت کے لیے اپنی زندگی کو وقف کردیا۔ انھوں نے فارسی، اردو، پنجابی میں جتنا کچھ لکھا اس کا ایک تہائی اقبالیات پر مشتمل ہے۔ اپنی عمر کے آخری سال تو صوفی تبسم نے صرف اقبالیات کے فروغ کے لیے وقف کردیے تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں :معروف شاعر رئیس امروہوی کا یوم وفات
——
فروری 1976 میں صوفی تبسم کی ان ہی خدمات کے پیش نظر انھیں اقبال اکادمی کا وائس پریذیڈنٹ مقرر کردیا گیا اور پھر آخری وقت تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔
صوفی تبسم کی ان خدمات کے اعتراف میں پنجاب یونیورسٹی نے انھیں تمغہ پیش کیا،
پھر علامہ اقبال پر بہترین کتاب تحریر کرنے والے ادیب کے لیے علامہ اقبال میڈل صوفی تبسم کو دیا گیا۔
اقبال میوزیم لاہور نے مجسمہ اقبال دیا۔
صوفی تبسم جب آرٹس کونسل لاہور کے چیئرمین بنائے گئے تو یہاں بھی انھوں نے اقبالیات پر بہت کام کیا۔ ہفتہ وار اقبال لیکچر اور تنقیدی مجالس کا اہتمام کیا، بلامبالغہ انھوں نے اقبالیات کی تشریح و ترقی کے سلسلے میں انتھک کام کیا۔
اپنی زندگی کے سفر کے اختتام پر بھی صوفی تبسم اقبال میموریل فنڈ کے سلسلے میں ٹی وی پر قوم سے اپیل کرنے اسلام آباد گئے ہوئے تھے کہ واپسی پر لاہور ریلوے اسٹیشن پر اپنے شاگرد کے ہاتھوں میں وفات پائی۔
صوفی تبسم کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ انھوں نے دفتری زبان اردو قائم کی جس میں دفتری زبان کی اصلاحات کو عام فہم اردو زبان میں منتقل کرنے کا اہتمام کیا۔ یہاں ان کے ساتھ سید وقار عظیم بھی موجود تھے۔
صوفی تبسم پاکستان کرکٹ بورڈ کے پہلے چیئرمین بھی رہے اور انھوں نے شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے ’’مڈسمر نائٹ ڈریم‘‘ کا ’’ساون رین کا سپنا‘‘ کے نام سے ترجمہ بھی کیا تھا جو بہت کم لوگوں کے علم میں ہے۔
صوفی تبسم نے دو فلموں میں گانے بھی لکھے، جن میں ’’شام ڈھلے‘‘ فلم مشہور ہے۔ ان کے فلمی گیتوں میں بھی ادبی رنگ نمایاں رہا:
——
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی
——
یہ بھی پڑھیں : نابینا شاعر اقبال عظیم کا یوم وفات
——
اور یہ گیت:
آگئی یاد شام ڈھلتے ہی‘ بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی
صوفی غلام مصطفی تبسم 7 فروری 1978 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے، لیکن وہ اپنی شاعری میں آج بھی زندہ ہیں ۔
——
منتخب کلام
——
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی
——
دلوں کا ذکر ہی کیا ہے ملیں ملیں نہ ملیں
نظر ملاؤ نظر سے نظر کی بات کرو
——
ملتے گئے ہیں موڑ نئے ہر مقام پر
بڑھتی گئی ہے دوریاں منزل جگہ جگہ
——
میں تحفہ لے کے آیا ہوں تمناؤں کے پھولوں کا
لٹانے کو بہار زندگانی لے کے آیا ہوں
——
قائدِ اعظم
تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا
تازہ ہے جاں ہماری، دل ہے جواں ہمارا
تیری ہی ہمتوں سے آزاد ہم ہوئے ہیں
خوشیاں ملی ہیں، ہم کو دل شاد ہم ہوئے ہیں
تجھ سے ہی لہلہایا یہ گلستاں ہمارا
پھرتے تھے ہم بھٹکتے، رستہ ہمیں دکھایا
تُو رہنما ہمارا، تُو سارباں ہمارا
تیرے ہی حوصلے سے طاقت ملی ہے ہم کو
تیری ہی آبرو سے عزت ملی ہے ہم کو
چمکا ہے تیرے دم سے قومی نشاں ہمارا
اس دیس میں ابھی تک چرچا ہے عام تیرا
جس شخص کو بھی دیکھا، لیتا ہے نام تیرا
دل تیری یاد سے ہے اب تک جواں ہمارا
ہم جو قدم اٹھائیں آتی ہے یاد تیری
ہم جس طرف بھی جائیں آتی ہے یاد تیری
تجھ سے رواں دواں ہے یہ کارواں ہمارا
——
نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں
کسی کے آنے کی ہم لے کے آس بیٹھے ہیں
نظر اٹھا کے کوئی ہم کو دیکھتا بھی نہیں
اگرچہ بزم میں سب روشناس بیٹھے ہیں
الٰہی کیا مری رخصت کا وقت آ پہنچا
یہ چارہ ساز مرے کیوں اداس بیٹھے ہیں
الٰہی کیوں تن مردہ میں جاں نہیں آتی
وہ بے نقاب ہیں تربت کے پاس بیٹھے ہیں
——
غم نصیبوں کو کسی نے پکارا ہو گا
اس بھری بزم میں کوئی تو ہمارا ہو گا
آج کس یاد سے چمکی تری چشم پر نم
جانے یہ کس کے مقدر کا ستارا ہو گا
جانے اب حسن لٹاۓ گا کہاں دولت درد
جانے اب کس کو غم عشق کا یارا ہو گا
ترے چھپنے سے چھپیں گی نہ ہماری یادیں
تو جہاں ہو گا وہین ذکر ہمارا ہو گا
یوں جدائی تو گوارہ تھی یہ معلوم نہ تھا
تجھ سے یوں مل کے بچھڑنا بھی گوارہ ہو گا
چھوڑ کر آۓ تھے جب شہر تمنا ہم لوگ
مدتوں راہ گزاروں نے پکارا ہو گا
ایک طوفاں میں قریب آ گئی اپنی منزل
ہم سمجھتے تھے بہت دور کنارا ہو گا
مسکراتا ہے تو اک آہ نکل جاتی ہے
یہ تبسمؔ بھی کوئی درد کا مارا ہو گا
——
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی
اک لحظہ بہے آنسو اک لحظہ ہنسی آئی
سیکھے ہیں نئے دل نے انداز شکیبائی
یہ رات کی خاموشی یہ عالمِ تنہائی
پھر درد اٹھا دل میں پھر یاد تری آئی
اس عالم ویراں میں کیا انجمن آرائی
دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی
اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی
ہر دردِ محبت سے الجھا ہے غمِ ہستی
کیاکیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی
چرکے وہ دیے دل کو محرومئ قسمت نے
اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی
جلووں کے تمنائی جلووں کو ترستے ہیں
تسکین کو روئیں گےجلووں کے تمنائی
یکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی
دنیا ہی فقط میری حالت پہ نہیں چونکی
کچھ تیری بھی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی
اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے
بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں آئی
افسونِ تمنا سے بیدار ہوئی آخر
کچھ حسن میں بے باک کچھ عشق میں زیبائی
وہ مست نگاہیں ہیں یا وجد میں رقصاں ہے
تسنیم کی لہروں میں فردوس کی رعنائی
آنکھوں نے سمیٹے ہیں نظروں میں ترے جلوے
پھر بھی دلِ مضطر نے تسکین نہیں پائی
سمٹی ہوئی آہوں میں جو آگ سلگتی تھی
بہتے ہوئے اشکوں نے وہ آگ بھی بھڑکائی
یہ بزمِ محبت ہے اس بزمِ محبت میں
دیوانے بھی شیدائی فرزانے بھی شیدائی
پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تری یادیں
جس سمت نظر اٹھی آواز تری آئی
اک ناز بھرے دل میں یہ عشق کا ہنگامہ
اک گوشہء خلوت میں یہ دشت پنہائی
ان مد بھر آنکھوں میں کیا سحر تبسم تھا
نظروں میں محبت کی دنیا ہی سمٹ آئی
——
زندگی ہے تو کوئی بات نہیں ہے اے دوست
زندگی ہے تو بدل جائیں گے یہ لیل و نہار
یہ شب و روز، مہ و سال گزر جائیں گے
ہم سے بے مہر زمانے کی نظر کے اطوار
آج بگڑے ہیں تو اک روز سنور جائیں گے
فاصلوں ، مرحلوں راہوں کی جدائی کیا ہے
دل ملے ہیں تو نگاہوں کی جدائی کیا ہے
کلفت زیست سے انساں پریشاں ہی سہی
زیست آشوب غم مرگ کا طوفاں ہی سہی
مل ہی جاتا ہے سفینوں کو کنارا آخر
زندگی ڈھونڈ ہی لیتی ہے سہارا آخر
اک نہ اک روز شب غم کی سحر ہو گی
زندگی ہے تو مسرت سے بسر بھی ہو گی
زندگی ہے تو کوئی بات نہیں ہے اے دوست !
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ