ضبطِ غم توڑ گئی بھیگی ہوا بارش میں

ضبطِ غم توڑ گئی بھیگی ہوا بارش میں

دل کہ مٹی کا گھروندا تھا گرا بارش میں

 

شادیِ مرگ کو کافی تھا بس اک قطرۂ آب

شہر تشنہ تو اجڑ سا ہی گیا بارش میں

 

روشنی دل میں مرے ٹوٹ کے رونے سے ہوئی

اک دیا مجھ میں عجب تھا کہ جلا بارش میں

 

لاج رکھ لی مرے پندار کی اک بادل نے

میرے آنسو نہ کوئی دیکھ سکا بارش میں

 

کھیت پیاسے تھے اِدھر، اور اُدھر کچے مکان

میں نے دیکھا تو نظر آیا خدا بارش میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں
خاک اُڑتی ہے رات بھر مجھ میں
تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں
تاثیرِ فیضِ خاکِ درِ بارگاہِ عشق
پایا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی
وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی
پا ہی گئی ہے خاک ٹھکانہ ، خاکِ ازل کی پرتوں میں
اک حدِ اعتدال پہ لرزاں ہے دیر سے

اشتہارات