طالب دنیا جو دو دل منفصل ہو جائیں گے!

طالب دنیا جو دو دل منفصل ہو جائیں گے!

دین سے پیوستہ ہو کر ایک دل ہو جائیں گے!

 

یعنی جو افراد ہوں گے دشمنی میں دور دور

پیرویٔ مصطفی ﷺ سے متصل ہو جائیں گے!

 

آخرش مٹ جائیں گی ساری ہی آوازیں مگر

مدحتِ آقا ﷺ کے نغمے مستقل ہو جائیں گے!

 

شاد ہوں گے دامنِ ختم الرسل تھا میں گے جو

جو رہے محروم وہ خود منفعل ہو جائیں گے!

 

اِک نظر آقا ﷺ مری جانب کہ میرے زخم بھی

آپ کی بس اِک نظر سے مندمل ہو جائیں گے!

 

جو کریں گے آپ کی توصیف ہوں گے شاد کام!

ہجو کہہ کر آپ کے دشمن خجل ہو جائیں گے!

 

رنگ لائے گی دلِ عشاق کی یہ بے کلی!

تا بہ طیبہ جس قدر ذرّے ہیں دل ہو جائیں گے!

 

صَرف ہوں گے جو قویٰ انکارِ آقا ﷺ میں عزیزؔ

خود مصافِ زندگی میں مضمحل ہو جائیں گے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دان لینے کو میں سرکارؐ سفر کر آیا
خزاں سے کوئی طلب نہیں ہے بہار لےکر میں کیا کروں گا
سب یار فلاں ابنِ فلاں بھول گیا ہوں
جہاں میں مرتبہ جس نے بهی چاہا
خاکِ کوئے جناب ہو جائوں
بابِ مدحت پہ مری ایسے پذیرائی ہو
لبوں پہ جب بھی درود و سلام آتا ہے
شیرازہ بندِ دفترِ امکاں ہے شانِ حق
آپ کی یادوں سے جب میری شناسائی ہوئی
بارگۂ جمال میں خواب و خیال منفعل