اردوئے معلیٰ

Search

طنابِ ذات کسی ہاتھ میں جمی ہوئی ہے

کہ جیسے وقت کی دھڑکن یہیں رکی ہوئی ہے

 

تجھے روا نہیں پیغام وصل کے بھیجیں

لکیر ہجر کی جب ہاتھ پر بنی ہوئی ہے

 

ہر اک دراڑ بدن کی نمایاں ہوگئی ہے

کہانی درد کی دیوار پر لکھی ہوئی ہے

 

یونہی تو خواب ہمیں دشت کے نہیں آتے

ہماری آنکھ کہیں ریت میں دبی ہوئی ہے

 

وہ میرے ساتھ کسی دائرے میں چل رہا ہے

گھڑی کی تیسری سوئی مگر تھمی ہوئی ہے

 

وہ شخص فیصلہ کرکے گیا نہیں تاحال

کہ آنے والی قیامت ابھی ٹلی ہوئی ہے

 

وہ آئنے میں مگن، کچھ بھی دیکھتا نہیں ہے

میں کیا بتاؤں ، مری جان پر بنی ہوئی ہے

 

بدن میں عشق بھی ہلکورے لے رہا ہے زبیر

ہمارے سامنے رسی کوئی تنی ہوئی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ