اردوئے معلیٰ

طیبہ میں جاکے گلشن و گلزار دیکھئے

طیبہ میں جا کے گلشن و گلزار دیکھئے

ماتھے کی آنکھ سے در و دیوار دیکھئے

 

کاسہ لئے کھڑے ہیں جہاں باادب سبھی

کتنا حسیں وہ اعلٰی ہے دربار دیکھئے

 

ہوگا انہیں کا داخلہ جنت میں روز حشر

کرتے ہیں مصطفی سے جو بھی پیار دیکھئے

 

دیوارِ ظلم و کفر کو ڈھانے کے واسطے

آئے ہیں کائنات کے مختار دیکھئے

 

نعت رسول جب بھی میں لکھتا ہوں باوضو

موتی پرو کے آتے ہیں اشعار دیکھئے

 

عاصی کہیں گے جھوم کے میدان حشر میں

ہم کو بچانے آئے ہیں سرکار دیکھئے

 

اس جا لگاؤ نعرہ رضا خان کا سبھی

جس جا حبیبِ پاک کا غدار دیکھئے

 

پل میں گئے ہیں آئے ہیں وہ لامکان سے

نوری ہے ایسی شاہ کی رفتار دیکھئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ