اردوئے معلیٰ

طیبہ کا سفر شکر ہے در پیش ہوا ہے

خوشیوں کا مسرت کا کنول دل میں کھلا ہے

 

بے تابیِ دل آج سکوں پائے گی میری

ہے اُن کا کرم اِذنِ سفر مجھ کو مِلا ہے

 

مٹ جائے گی اک پل میں سیاہی مرے دل کی

جاتا ہوں جہا ں مرکزِ انوار و ضیا ہے

 

بے نور نگاہوں کو بھی انوار ملے گا

طیبہ ہے کہ اک مرکزِ انوار وضیا ہے

 

دیکھوں گا بہ صد ناز وادب جالی سنہری

صدقے ، مرے آقا کے کرم مجھ پہ کیا ہے

 

اب روضۂ جنت میں مری ہوں گی نمازیں

صد شکر کہ مجھ پر درِ جنت بھی کھلا ہے

 

وہ اُستنِ حنّا نہ بھی آئے گا نظر میں

ہجرِ شہ طیبہ میں جو اشکبار ہوا ہے

 

جاؤں گا بقیع میں تورہے گی یہی حسرت

پیوندِ زمیں مَیں ، ہوجاؤں یہ جا ہے

 

پائیں گے اماں جتنے بھی غم گیں ہیں دُکھی ہیں

لاریب! ہر اک دُکھ کی دواخاکِ شفا ہے

 

پلکوں سے خوشا چوموں گا طیبہ کی زمیں مَیں

قدموں سے بھی چلنا تو وہاں ایک خطا ہے

 

ہو کر درِ سرکار سے جائیں گے حرم کو

کعبہ ہمیں سرکار کے صدقے میں مِلا ہے

 

ہر سال مدینے میں بلانا ہمیں آقا

یوں آپ کے الطاف سے یہ دور بھی کیا ہے

 

مَیں سانس بھی لوں تیز تو یہ بے ادبی ہو

رہنا ہے خبردار! کہ شمشیر کی جا ہے

 

محروم تو اغیار بھی جس در سے نہیں ہیں

قسمت سے مُشاہدؔ بھی اُسی در کا گدا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات