اردوئے معلیٰ

طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے

طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے

شاید نہ دل مضطر پہلو سے نکل جائے

 

ہر وقت مجھے رضواں طیبہ کا نظارہ ہے

کیسے تری جنت میں دل میرا بہل جائے

 

تو جانِ تمنا ہے کونین کا مالک ہے

گر تیرا اشارہ ہو تقدیر بدل جائے

 

آنکھیں ہوں مری پُرنم اور ہاتھ میں جالی ہو

پھر زیست کا یہ سورج اے کاش کہ ڈھل جائے

 

دل درد کا مسکن ہے اے جانِ مسیحائی

گر مار دے تو ٹھوکر پتھر بھی پگھل جائے

 

یہ داغ ترے دل میں بے وجہ نہیں نیرؔ

محشر میں کہیں اس کی رحمت نہ مچل جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ