عاشق ہوا ہے جس کا وہ خالق علی الخصوص

عاشق ہوا ہے جس کا وہ خالق علی الخصوص

کیوں کر نہ ہو سبھی میں وہ فائق علی الخصوص

 

آدم تھا آب و گِل میں ولیکن نبی کا نور

پیدا ہوا ہے کُل سے وہ سابق علی الخصوص

 

شانِ نبیِ پاک کو دیکھو تو غور کر

خالق تھا جس کے ساتھ بھی ناطق علی الخصوص

 

جوں نورِ شمع شمع سے اور شمع نور سے

ہے حق نبی سے اس طرح شارق علی الخصوص

 

امت کی مغفرت کا رسولِ کرام نے

حق سے لیا ہے وعدۂ واثق علی الخصوص

 

ہوتے ہیں سب مرید خدا و رسول کے

لیکن ہے ایک لاکھ میں صادق علی الخصوص

 

برہاں کی التجا ہے یہی ذوالجلال سے

دل سے نبی کا میں رہوں شائق علی الخصوص

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سید و سرور محمد نورِ جاں
وہ سب انبیاء کے ہیں ٹھہرے امام
جس نے بھی بزمِ پاک سجائی حضور کی
علاجِ دیدہ پُر نم حضور کی رحمت
جہاں میں جو عزّ و جاہ چاہے
آئے رسولِ پاک تو منظر بدل گیا
دارالاماں یہی ہے حریمِ خدا کے بعد
خاک جب اس پیکرِ نوری کا مدفن ہو گئی
توفیقِ ثنا جو مل رہی ہے
شاہِ بطحا کا جس پر کرم ہوگیا