عالی شاں آپ سا نہیں دیکھا

عالی شاں آپ سا نہیں دیکھا

مہرباں آپ سا نہیں دیکھا

 

گو کہ جلوے ہیں لاکھ پردوں میں

قربِ جاں آپ سا نہیں دیکھا

 

سارے عالم کو روشنی بخشی

ضوفشاں آپ سا نہیں دیکھا

 

شبِ معراج عرشِ اعظم کا

میہماں آپ سا نہیں دیکھا

 

عاصیوں کو سنبھالنے والا

نگہباں آپ سا نہیں دیکھا

 

نعمتیں بے حساب بٹتی ہیں

آستاں آپ سا نہیں دیکھا

 

غمِ امت کو ڈھانپ رکھا ہے

سائباں آپ سا نہیں دیکھا

 

دشمنِ دیں بھی ہو گئے قائل

خوش بیاں آپ سا نہیں دیکھا

 

دل کی دنیا پہ راج کرتا ہے

حکمراں آپ سا نہیں دیکھا

 

جس کی منزل خدا کی جنت ہے

کارواں آپ سا نہیں دیکھا

 

جس میں حسن و حسین سے گل ہیں

گلستاں آپ سا نہیں دیکھا

 

آپ کی آرزو رضاؔ رب کی

عالی شاں آپ سا نہیں دیکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

طبیعت فطرتاََ پائی سخن کے واسطے موزوں
ہے یہ میدانِ ثنا گر نہ پڑے منہ کے بل
کیفِ یادِ حبیب زیادہ ہے
(سلام) نورِ چشمِ آمنہ اے ماہِ طلعت السلام
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے
سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کیلئے
سرِ میدانِ محشر جب مری فردِ عمل نکلی
راگ ہے ’’باگیشری‘‘ کا اور بیاں شانِ رسول
خواب میں کاش کبھی ایسی بھی ساعت پاؤں

اشتہارات