عجب خود آگہی کے مرحلے ہیں

عجب خود آگہی کے مرحلے ہیں

ہم اپنے سامنے حیراں کھڑے ہیں

 

مری آنکھیں تو پیاسی ہیں سحر کی

ستارے کیوں اُترتے آ رہے ہیں

 

نہیں، یہ خواب کا عالم نہیں ہے

یہ سب منظر تو جیتے جاگتے ہیں

 

دیارِ شب کے سنّاٹے میں ہم نے

نگارِ صبح کے نغمے سُنے ہیں

 

ابھی کچھ رنگ ہیں دِل بستگی کے

ابھی کچھ خواب آنکھوں میں سجے ہیں

 

اُلجھتی جا رہی ہے ذہن کی رَو

کہانی میں کئی موڑ آ چکے ہیں

 

یہ سورج کس لیے جلتا ہے دِن بھر

ستارے رات بھر کیوں جاگتے ہیں

 

فرشتوں کی طرح دُنیا کو دیکھا

صحیفوں کی طرح چہرے پڑھے ہیں

 

یہ چھوٹا سا جزیرہ رہ گیا ہے

اسے بھی ہم ڈبونے پر تُلے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ