عجب پر نور تھا اس دم سماں معراج کی شب

 

عجب پر نور تھا اس دم سماں معراج کی شب

ہوا جب غیبِ کل تجھ پر عیاں معراج کی شب

 

سند بعبدہِ کی پائی پہلے، پاک رب سے

گئے پھر آپ سوئے لامکاں معراج کی شب

 

سرِ عرشِ معلّی مصطفی جلوہ فگن تھے

رہا ساکن ہر اک کارِ جہاں معراج کی شب

 

وہ قربِ خلق اور خالق بھی تھا پر نور کیسا

کہ بس تھا فاصلہ مثلِ کماں معراج کی شب

 

انہیں تملیکِ کل میں کیا دیا کتنا دیا ہے

محمد اور احد ہیں رازداں معراج کی شب

 

سرِ عرشِ بریں شادی رچی تھی خوب منظرؔ

سبھی حور و ملک تھے شادماں معراج کی شب

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے
پیشوائے انبیاء ہے آمنہ کی گود میں
مظہرِ قدرت باری صورت
نظر میں جلووں کی جھلملاہٹ پکارتی ہے
جو ضم ہو عشقِ نبی میں ،ہے بیکراں دریا
گویا بڑی عطا ہے طلبگار کےلئے
کلی کلی کی زباں پر یہ نام کس کا ہے؟
گھٹا فیضان کی امڈی ہوئی ہے
کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں
دل نشیں ہیں ترے خال و خد یانبی

اشتہارات