اردوئے معلیٰ

عجیب دکھ تھا کہ اقرار ہو نہیں رہا تھا

میں چپ رہا تھا کہ انکار ہو نہیں رہا تھا

 

مری اور اس کی محبت کا ذکر تھا جس میں

میں اس کہانی کا کردار ہو نہیں رہا تھا

 

کسی کی ہلکی سی مسکان سے سلگتا دل

وہ آئنہ تھا جو دیوار ہو نہیں رہا تھا

 

غضب کی دھوپ تھی سلگا رہی تھی جسم وجاں

سروں پہ سایۂ دیوار ہو نہیں رہا تھا

 

طبیبِ عشق تو سب ہاتھ مل رہے تھے مگر

کسی کا حسن کہ بیمار ہو نہیں رہا تھا

 

تمام نقش اتارے گئے تھے پانی پر

پہ صاف دل سے وہ زنگار ہو نہیں رہا تھا

 

بھری ہے عشق نے جیبوں میں سانس کی نقدی

یہ کاروبار بھی بیکار ہو نہیں رہا تھا

 

غزل کی آنکھ میں تھے رتجگے زمانوں کے

خیال، خواب سے بیدار ہو نہیں رہا تھا

 

کھلونے توڑنے اور جوڑنے میں ہی لگا ہے

یہ دل ہمارا سمجھدار ہو نہیں رہا تھا

 

نبھا رہے تھے سبھی شور کی ادا کاری

خموش ایک بھی فنکار ہو نہیں رہا تھا

 

کوئی ہنسی تھی کہ دل ڈولنے لگا تھا زبیرؔ

وہ ایک اشک جو پتوار ہو نہیں رہا تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات