عرض یا ربّ قبول ہو جائے

 

عرض یا ربّ قبول ہو جائے

دِل مدینہ کی دھُول ہو جائے

 

مہرباں ہو گیا خُدا سمجھو

مہرباں گر رسول ہو جائے

 

آپ رحمت کی اِک نظر ڈالیں

ایک اِک خار پھُول ہو جائے

 

مرے آقا معاف کرتے ہیں

گر کوئی ہم سے بھول ہو جائے

 

آپ کے عشق میں مگن رہنا

زندگی کا اُصول ہو جائے

 

شعر وہ باریاب ہوتا ہے

جس میں ذِکرِ بتولؓ ہو جائے

 

نعت لکھ کر سُکون ملتا ہے

دِل ظفر!ؔ گر ملول ہو جائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ