عشقِ سرور میں بے قرار آنکھیں

عشقِ سرور میں بے قرار آنکھیں

خوش مقدر ہیں اشکبار آنکھیں

 

خوبصورت ہے جس کا ہر منظر

ڈھونڈتی ہیں وہی دیار آنکھیں

 

حسرتِ دید لے کے پلکوں میں

ان کا کرتی ہیں انتظار آنکھیں

 

جلوہ گر ہے جو دشتِ طیبہ میں

مانگتی ہیں وہی غبار آنکھیں

 

پانی پانی ہوئیں مواجہ پر

جرمِ عصیاں سے داغدار آنکھیں

 

میں تہی دست کاش کر سکتا

روحِ کونین پر نثار آنکھیں

 

وقتِ رخصت دیارِ خوشبو کو

مڑ کے دیکھیں گی بار بار آنکھیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ