اردوئے معلیٰ

عشقِ شاہِ دوسرا کی ابتدا صدیق ہیں

عاشقانِ شاہِ دیں کے مقتدا صدیق ہیں

 

ایک اشارے پر تصدق مال سارا کر دیا

مصدرِ ایثار ہیں، سب سے جدا صدیق ہیں

 

سب کو بدلہ دے دیا میں نے، کہا سرکار نے

جس کے احساں کی جزا دے گا خدا صدیق ہیں

 

نرم خو، اہلِ وفا، علم و عمل کی آبرو

منبعِ صبر و رضا صدق وصفا صدیق ہیں

 

سانپ ڈستا رہ گیا نظریں رہیں سرکار پر

سرورِ کونین پر ایسے فدا صدیق ہیں

 

دیکھتے رہتے علی کے روئے پر انوار کو

طاعتِ سرکار میں یوں خوش ادا صدیق ہیں

 

برملا فرما دیا سرکار نے اشفاق جی

سب سے افضل شخص بعدِ انبیا صدیق ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات