اردوئے معلیٰ

Search

عشق سرکار کا ہی کافی ہے

دل میں یہ اک دیا ہی کافی ہے

 

اور دعاؤں کی ہم کو کیا حاجت

لب پہ صلِ علیٰ ہی کافی ہے

 

دونوں عالم کے بخشوانے کو

حق ہے بس مصطفی ہی کافی ہے

 

کیوں نہ ذکرِ نبی کروں ہر دم

مجھ پہ ان کی عطا ہی کافی ہے

 

کیسے جاؤں میں جانبِ طیبہ

بہر عصیاں سیاہی کافی ہے

 

میرے امراض کو شفاء خاطر

اس گلی کی ہوا کی کافی ہے

 

میں کہیں اور کیوں قمر ؔجاؤں

وہ حبیبِ خدا ہی کافی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ