اردوئے معلیٰ

Search

عشق سے مجھ کو انحراف نہ تھا

خون لیکن مرا معاف نہ تھا

 

ہم ہنسے تھے کہ لفظ رونے لگے

ضبط کا شعر پر غلاف نہ تھا

 

اس نے دیوار پر لکھا تھا مجھے

کوئی بھی لفظ صاف صاف نہ تھا

 

دائرے کا تجھے رکھا مرکز

یہ مرا عشق تھا ، طواف نہ تھا

 

کہہ دیا اُس نے حالِ دل اک دن

ویسے یہ کوئی انکشاف نہ تھا

 

وقت ِرخصت کا بھیگتا منظر

کیا محبت کا اعتراف نہ تھا؟

 

ہم نے رکھی نہیں لگی لپٹی

موڈ اُس کا بھی آج آف نہ تھا

 

ویسے دنیا سے بن نہیں رہی تھی

وہ مرے غم میں اعتکاف نہ تھا

 

دل بھی میرا اداس تھا قیصر

اور سبب عین شین قاف نہ تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ