اردوئے معلیٰ

Search

عشق سے پہلے بُلاتا تھا میں تُو کر کے اُسے

لیکن اب تو سوچتا بھی ہوں وضو کر کے اُسے

 

اُس کا مقصد قتل ہے میرا تو بسم اللہ کرے

سرخرو ہو جاؤں گا میں سرخرو کر کے اُسے

 

سرخ انگاروں بھری وہ آگ جب بُجھنے کو تھی

رکھ لیا میں نے رگ و پَے میں لہو کر کے اُسے

 

!اتنی آسانی سے مت کھونا اُسے ، اے میرے دل

یاد ہے پایا تھا کتنی جُستجو کر کے اُسے ؟

 

شکر ہے فارس تُو ہرنی کی مدد کو آگیا

بھیڑیئے دہلا رہے تھے ہاؤ ہُو کر کے اُسے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ