عشق سے پہلے بُلاتا تھا میں تُو کر کے اُسے

عشق سے پہلے بُلاتا تھا میں تُو کر کے اُسے

لیکن اب تو سوچتا بھی ہوں وضو کر کے اُسے

 

اُس کا مقصد قتل ہے میرا تو بسم اللہ کرے

سرخرو ہو جاؤں گا میں سرخرو کر کے اُسے

 

سرخ انگاروں بھری وہ آگ جب بُجھنے کو تھی

رکھ لیا میں نے رگ و پَے میں لہو کر کے اُسے

 

!اتنی آسانی سے مت کھونا اُسے ، اے میرے دل

یاد ہے پایا تھا کتنی جُستجو کر کے اُسے ؟

 

شکر ہے فارس تُو ہرنی کی مدد کو آگیا

بھیڑیئے دہلا رہے تھے ہاؤ ہُو کر کے اُسے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
گر تمہیں شک ہے تو پڑھ لو مرے اشعار، میاں
ہوا،صحرا،سمندر اور پانی،زندگانی
تو سنگِ درِ یار سلامت ہے ، جبیں بھی؟
لاکھ قسمیں دی گئیں ، سو خواب دکھلائے گئے
بالفرض میں جنون میں بھر بھی اڑان لوں
غم کو شکست دیں کہ شکستوں کا غم کریں
دشتِ امکان سے گزر جائیں
غرورِ شب کو کھٹکتا تھا اور ہی صورت