اردوئے معلیٰ

عشق میرا شہ طیبہ سے جو مربوط ہوا

میری بخشش کا وسیلہ بڑا مضبوط ہوا

 

حُبّ مولا کے لیے طاعت محبوب ہے شرط

قرب حق انکے تقرب سے ہی مشروط ہوا

 

جسکے سینے میں نہ ہو سرور کونین کا عشق

ہوں عمل کتنے بھلے پھر بھی وہ مغلوط ہوا

 

نام اللہ کا بے نقطہ ہے یہ بھی دیکھو

نام محبوب’ محمد‘ کہاں منقوط ہوا

 

کون کہتا ہے کہیں اسم جلالت ہے فقط

ہر جگہ اسم محمد بھی تو مخطوط ہوا

 

پوچھو ابلیس سے گستاخ نبوت کی سزا

کس بلندی پہ تھا اور کس طرح مسقوط ہوا

 

جب چلا قافلۂ شوق مدینے کے لیے

دردِ دل نور مرا اور بھی مَفروط ہوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات